Skip to product information
1 of 1

Kitab Rishta

ZILATON KAY MARY LOG ذلتوں کے مارے لوگ

ZILATON KAY MARY LOG ذلتوں کے مارے لوگ

Regular price Rs.950.00
Regular price Rs.1,500.00 Sale price Rs.950.00
Sale Sold out

ZILATON KAY MARY LOG ذلتوں کے مارے لوگ
PAGES:420

مصنف: دوستو فسکی

اردو ترجمہ: ظ انصاری

 

دستوئیفسکی کا جلاوطنی سے واپسی کے بعد لکھا گیا یہ پہلا بڑا ادبی کام تھا۔ یہ ناول پہلی بار 1861ء میں رسالہ ’’وَریمیہ‘‘ (وقت) میں ’’ذلتوں کے مارے لوگ: ایک ناکام ادیب کی ڈائری سے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جسے مصنف نے اپنے بڑے بھائی میخائل دستوئیفسکی کے نام معنون کیا تھا۔ یہ رسالہ خود مصنف اور اُس کے بھائی میخائل کی ادارت میں جاری ہوا۔ رسالے کے مواد کو مکمل کرنے کے لیے، دستوئیفسکی کو ایک طویل ناول لکھنے کی ضرورت پیش آئی جسے قسط وار شائع کیا جا سکے۔ ناول کا بڑا حصہ مصنف نے رسالے کے اگلے شمارے کی ڈیڈ لائن کے مطابق قسط وار لکھا۔اس ناول کا تصور دستوئیفسکی کو 1857ء ہی میں آ گیا تھا۔ 1860ء میں سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہونے کے بعد، اس نے فوراً اس خیال کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ جولائی 1861ء میں اس ناول کی آخری قسط منظرِ عام پر آئی، اور اُسی سال یہ ایک علیحدہ اشاعت کی صورت میں سینٹ پیٹرزبرگ سے شائع ہوا۔ناول کے چند مقامات پر مصنف، ایوان پترو وِچ کے ذریعے، اپنے پہلے ناول ’’بے چارے لوگ‘‘ کی قسمت کا ذکر کرتا ہے، جو 1846ء میں ’’پیٹرزبرگ کولیکشن‘‘ میں شائع ہوا اور بے حد کامیاب رہا۔ خاص طور پر نقاد بیلنسکی (جسے ناول میں نقاد ’’ب‘‘ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے) نے اس کی بہت تعریف کی۔’’ذلتوں کے مارے لوگ‘‘ دراصل اُن لوگوں کی کہانی ہے، جو سماج کے کناروں پر زندہ ہیں __ بے بس، مگر انسانی عظمت کے خواب سے جڑے ہوئے۔ یہ ناول، نہ صرف درد کی داستان ہے بلکہ محبت، قربانی، اور سماجی انصاف کی ایک خاموش پکار بھی ہے۔

View full details